اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اس ملک پر کہ کیسے گزارا ہو گا؟؟
کیا ہو گا؟؟
خواتین کے لیے ہر کام کتنا مشکل اور مصیبت بنتا جا رہا ہے! وہ بجٹ بنائیں بھی تو کیسے بنائیں؟؟
جب لمحے لمحے غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی قیمتیں، کرائے، اوپر سے بھائی بندوں اور شوہروں کی ملازمتوں کی غیر یقینی صورتحال، اور کاروبار کی مندی مزید سونے پہ سہاگا ہے۔ آئے روز پیٹرولیم اور لیوی ٹیکس، بھتا ٹیکس، چھینا جھپٹی کی وارداتیں مزید افسوسناک بات ہے۔ کوئی قانون نہیں، انصاف نہیں، عدل و قسط کا نظام کہیں بھی نہیں۔۔۔ آوے کا آوا بگڑتا جا رہا ہے! خواتین کریں تو کیا کریں؟ صبح سے شام تک اسی پریشانی میں دن گزرتے ہیں، اگرچہ وہ بھی محنت کرتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین بے بسی و بے کسی کا شکار ہیں۔ بعض سفید پوش خواتین کو تو میں نے بھیک مانگتے تک دیکھا ہے۔ وہ بھی کیا کریں؟ پیٹ کی آگ کے آگے انسان مجبور ہو جاتا ہے۔ مردوں کے پاس ٹیلنٹ و ڈگریاں ہیں، لیکن انہیں اپنے لحاظ سے اتنا پیسہ نہیں ملتا جتنا ان کا حق اور گھروں کی کفالت کے لیے ضروری ہے۔ سب گھر والے مل کر کماتے ہیں لیکن پھر بھی مسائل کا شکار ہیں۔ خواتین اپنی سی پوری کوشش کرتی ہیں کہ وہ گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹائیں تاکہ کوئی تنگی نہ ہو، پریشانی نہ ہو؛ لیکن موجودہ حالات میں تو گھر کا چولہا چلانا مشکل ہو گیا ہے۔
میں نے دروازہ کھولا کہ کچرے کا ڈبہ نکال کر باہر رکھوں تو میری دونوں پڑوسنیں آمنے سامنے کھڑی تھیں اور آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ میں بھی سلام کر کے دیکھنے لگی کہ کیا بات کر رہی ہیں، سب خیر ہے؟
تو سیما کہنے لگی: “ان سے کام تھا!!!”
پھر عالیہ نے کہا: “سیما باجی! معذرت، میرے پاس صرف 200 روپے ہیں۔”
سیما نے شکریہ ادا کر کے لے لیے اور عالیہ اپنے گھر میں چلی گئی، تو سیما مجھ سے کہنے لگی: “آپ سے بہن ایک فیور چاہیے!”
پہلے تو پوچھا: “آج آپ نے اسکول سے چھٹی کی ہے؟ خیریت ہے؟”
میں نے کہا: “جی، ذرا ڈاکٹر کے پاس جانا ہے اس لیے چھٹی کی ہے۔”
پھر پوچھنے پر بتایا کہ مجھے روٹ کنال کے لیے دانت کے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ سیما نے کہا: “اللہ خیر کرے، بڑا مشکل کام ہے۔”
میں نے کہا: “اللہ خیر کرے گا، کروانا تو ہے؛ دس ہزار کا خرچہ ہے، درد الگ ہے!!”
وہ کہنے لگی کہ بجلی، گیس، پانی کا الگ مسئلہ ہے، بیماری آ جائے تو گھر چلانا بالکل ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر کہنے لگی: “پلیز! آپ مجھے تین ہزار ادھار دے سکتی ہیں؟”
میں نے کہا: “تھوڑی دیر رکئیے، میں دیکھتی ہوں۔”
اندر آ کر میں نے باوجود کوشش کے ڈھائی ہزار روپے اکٹھے کیے اور معذرت کے ساتھ انہیں دے دیے کہ: “اس سے زیادہ نہیں ہیں، یہی رکھ لیجیے۔”
پھر وہ شکریہ ادا کر کے جانے لگی اور کہنے لگی: “اصل میں دو دن سے میری بیٹی کالج نہیں جا رہی ہے، میرے پاس پیسے نہیں تھے، روزانہ اس کو 100 روپے دینے ہوتے ہیں اور مجھے مزید کچھ کام بھی کرنا ہے۔ اس وقت بالکل گھر میں پیسے نہیں ہیں، تھوڑی سی بیماری آ جائے تو بجٹ پورا آؤٹ ہو جاتا ہے، تو بہرحال اس سے کام چل جائے گا، آپ کا بہت بہت شکریہ! میں جلد آپ کو لوٹا دوں گی۔”
یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں نے بھی اندر آ کے دروازہ بند کر لیا اور سوچنے لگی کہ ایک ہی فلور میں تین گھر، اور تینوں گھروں میں اپنے اپنے لحاظ سے خواتین کتنی پریشان ہیں؟ گھر والے بھی کتنی محنت کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں اتنی تنگیوں کا سامنا ہے! ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟
تھوڑی دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ کھولا تو وہی عالیہ بہن ایک پیالی تیل اور آلو بھی مانگ رہی تھیں۔ میں نے دے دیے تو کہنے لگیں: “باجی! چلیں گی کل ان شاء اللہ؟ ہم احتجاج میں جانا چاہ رہے ہیں، آپ ہمیں ساتھ لے جائیے گا۔”
تو میں نے کہا: “ان شاء اللہ میں کوشش کروں گی، ذرا میرے دانت کا مسئلہ حل ہو جائے۔”
اور پھر میں سوچنے لگی کہ واقعی ہماری خواتین بیدار ہیں، مہنگائی سے بیزار ہیں۔۔۔ اب انصاف اور اپنا جائز حق چاہتی ہیں!!!
حق کے لیے، مسائل کے حل کے لیے۔۔۔ نکلنا ہو گا، احتجاج کرنا ہو گا اپنے لیے، پاکستان کے لیے!!!





















Add Comment