بابر ہمیشہ کام پر سے آنے کے بعد چائے پیتا تھا، لیکن آج اس کی چائے بھی ٹھنڈی ہو گئی تھی، پر وہ سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا۔
اماں نماز سے فارغ ہو کر جب اس کے پاس آئیں تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں، “کیا ہوا بیٹا؟ بابر، بہت دیر سے خاموش بیٹھے ہوئے ہو۔”
جب اس نے اپنا سر اٹھایا تو اس کا چہرہ درد و فکر کی ایک تصویر پیش کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں، جن میں ہزاروں ستارے چمک رہے ہوتے تھے، اپنے گھر والوں کو ایک بہترین مستقبل دینے کے خواب سجائے ہوئے تھیں، لیکن آج بڑا ٹوٹا ہوا تھا۔
“بابر بیٹا، کیا ہوا؟”
اماں پریشان ہو گئیں۔
بابر جیسے پھٹ ہی پڑا، “اماں، ہماری حکومت کو کیا ہو گیا ہے؟ عوام کا بالکل خیال ہی نہیں ہے۔ ہمیں مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔ بار بار پیٹرول بم گرایا جا رہا ہے۔ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ہم اپنے گھر کے جو جائز اخراجات ہیں، ان کو بھی پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہانہ 45 ہزار کمانے والے کی آدھی تنخواہ تو پیٹرول میں ہی لگ جاتی ہے، لیکن اب جیسے جیسے پیٹرول کے نرخ بڑھتے جا رہے ہیں، اب تو لگتا ہے کہ تنخواہ میں صرف پیٹرول ہی آیا کرے گا۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح سے گھر کے اخراجات کو چلاؤں۔ میں بڑا پریشان ہو رہا ہوں۔ دو دو کام کرنے کے بعد بھی آخری مہینے کے دنوں کے اندر قرض لینا پڑ جاتا ہے۔ بجلی، گیس کے بل، ان میں اتنے ٹیکسز لگا دیے ہیں، جتنا استعمال نہیں کرتے، اس سے زیادہ بل ادا کرنے پڑتے ہیں۔ پانی کی عدم دستیابی نے جینا حرام کر دیا ہے۔ گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں جو وافر مقدار میں مل رہی ہو۔ یہ تو حکومت کا کام ہوتا ہے نا کہ اپنی عوام کی آسائشوں کا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ یہ کیسی حکومت ہے جو بالکل بے حس ہے؟
اس کو صرف اپنے اقتدار کو بچانے کی فکر ہے، عوام کے کسی معاملے سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ ہم یہاں کے شہری ہیں، لیکن ہمیں کسی بھی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ہم اپنی جانوں کی اور اپنے مالوں کی حفاظت کے لیے کس کی طرف دیکھیں؟ آخر یہ کیسے معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں؟ جوان نسل، جو بہترین مستقبل کے خواب دیکھتی تھی، اب ڈپریشن کے اندر جا رہی ہے۔ اماں، میں بڑے اچھے مستقبل کے خواب دیکھتا تھا، لیکن اب میں ان حالات کے جال میں جکڑتا جا رہا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ان سارے معاملات سے باہر کیسے نکلوں۔ اچھا کھانا پینا بھی خواب بنتا جا رہا ہے۔ غریب عوام کی تو مہنگائی نے کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔”
اماں غور سے اس کی باتیں سن رہی تھیں۔ آج ان کے سامنے ان کا ہارا ہوا بیٹا بیٹھا تھا، جو کبھی بھی منفی باتیں نہیں کرتا تھا۔
“اماں، میں سوچ رہا ہوں کہ جاب چھوڑ کے کوئی چپس کا ٹھیہ وغیرہ لگا لوں، کم از کم اس میں پیٹرول تو خرچ نہیں ہوگا۔ تنخواہ میں تو کچھ بچ ہی نہیں رہا۔ مجھے معلوم ہے، اماں، آپ بھی بہت مشکل سے گھر کا گزارا کرتی ہیں۔ چھوٹے بہن بھائی ہیں، ان کی پڑھائی بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ آپ بھی اپنی طبیعت خراب ہونے کے باوجود سلائی کو چھوڑ نہیں سکتیں۔ گھر کا گزارا چلانا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ میں بہت پریشان ہو رہا ہوں، اور ہر شخص پریشان نظر آ رہا ہے۔ ہر ایک شخص میں بے چینی اور بے قراری پھیلی ہوئی ہے۔ مجھے لگتا ہے آس پاس والے لوگ مجھ سے زیادہ پریشان ہیں۔”
اماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، “بیٹا، اب تو وقت آ گیا ہے اپنے حالات کو بدلنے کا۔ یہ اربابِ اختیار ہم پر ظلم کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ اس ظلم کی چکی میں پسنے سے بہتر ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں جو ظلم سہنے کے بجائے ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں۔ اب ہر ایک کو اپنے گھر سے نکلنا ہوگا، کیونکہ پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اب تو ہم سب کو اپنے حقوق کے لیے نکلنا ہوگا۔”
بابر کے چہرے پر امید کی کرن چمک رہی تھی۔





















Add Comment