Home » blog page » بلاگ » خوابوں سے حقیقت تک – صباحت منصور
بلاگ

خوابوں سے حقیقت تک – صباحت منصور

اکنامکس میں ایم اے کرنے والی فرحی اپنی کلاس کی ٹاپر تھی۔ ذہانت، محنت اور خوبصورتی کا ایسا حسین امتزاج کہ دیکھنے والا یقین سے کہہ سکتا تھا کہ یہ لڑکی زندگی میں بہت آگے جائے گی۔ اس کی آنکھوں میں خواب تھے، دل میں کچھ کر دکھانے کا عزم تھا اور صلاحیتیں بے شمار تھیں۔ اگر حالات ساتھ دیتے، مواقع میسر آتے اور راستے آسان ہوتے تو شاید وہ اپنی قابلیت سے ایک الگ مقام بنا لیتی، مگر نصیبوں سے کون لڑ سکتا ہے۔

شادی کے بعد زندگی نے اسے ایک نئے امتحان میں ڈال دیا۔
گھر کے معمولی جھگڑے آہستہ آہستہ دلوں میں فاصلے پیدا کرنے لگے، اور آخرکار بات کرائے کے الگ گھر تک جا پہنچی۔ فرحی اپنے شوہر کو بار بار سمجھاتی رہی،
“اس مہنگائی کے دور میں ہم کہاں جائیں گے؟”
مگر شوہر کا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا،
“ساتھ رہ کر اگر دل دور ہو جائیں تو اس سے بہتر ہے کہ گھر الگ ہوں اور دل قریب رہیں۔”
آخرکار فرحی نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ ایک لحاظ سے اسے کچھ سکون بھی ملا۔ میاں کی کم آمدنی کی وجہ سے اسے بہت دبا کر رکھا جاتا تھا۔ چاہے نہ چاہے، گھر کے تمام کام اسی کے ذمے تھے۔ پھر بھی سکون نہ تھا۔

بچے اب بچے نہیں رہے تھے۔ وہ گھر کے روز روز کے جھگڑوں اور تلخیوں سے گھبرانے لگے تھے۔ میکے کے نام پر کوئی مضبوط سہارا نہیں تھا۔ خالہ خالو نے بچپن سے اس کی ذمہ داری نبھائی تھی، ان کی محبت ہی اس کا اصل سرمایہ تھی۔
ایک چھوٹے سے مناسب فلیٹ میں آ کر فرحی کو لگا کہ شاید اب زندگی کچھ آسان ہو جائے گی۔ گھر میں سکون تھا، بچوں کے چہروں پر اطمینان تھا، اور وہ بھی آہستہ آہستہ اپنی زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی۔ صاف ستھرا گھر، سادہ سا کھانا، اور بہت سا وقت ایک دوسرے کو دینے کے لیے ہوتا تھا۔ بچے تو بہت ہی خوش تھے۔ اب ان کو اپنی امی اپنی اپنی سی لگنے لگی تھیں۔ گھر میں سکون تھا، معصوم مسکراہٹیں تھیں، اور سب کچھ اپنا اپنا تھا۔
لیکن زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ ایک دن موٹر سائیکل کے حادثے نے سب کچھ بدل دیا۔ شوہر کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ بستر تک محدود ہو گئے۔ شکر تھا کہ حادثہ جان لیوا نہیں تھا، مگر گھر کی تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اچانک فرحی کے کندھوں پر آ گیا۔

دفتر والوں نے بھی کچھ مہربانی کی کہ نوکری ختم کرنے کے بجائے تنخواہ آدھی کر دی، مگر آدھی آمدنی میں پورا گھر چلانا آسان نہ تھا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، دواؤں کے اخراجات، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی ضروریات اور گھر کے خرچے نے فرحی کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر کون سی ضرورت پوری کرے اور کون سی خواہش کو دفن کر دے۔
صبح وہ کپڑے سلائی کرتی، اور شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی۔ ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے گھر کی گاڑی تو چل رہی تھی، مگر فرحی کا اندر آہستہ آہستہ تھک رہا تھا۔ شوہر بیماری کی وجہ سے چڑچڑے ہو گئے تھے، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ گھر کے ماحول کو مزید بوجھل بنا دیتی تھی۔
بچوں کے کپڑے پرانے ہو چکے تھے، جوتے اپنی عمر پوری کر چکے تھے۔ فرحی کبھی بچوں کی خواہشات دیکھتی، اور کبھی خالی بٹوہ۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ انہیں اچھی غذا دے، نئی چیزیں لے کر دے، یا گھر کے دوسرے اخراجات پورے کرے۔
صرف تیس پینتیس سال کی عمر میں فرحی چہرے سے اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی دکھائی دینے لگی تھی۔ وقت نے اس کی آنکھوں کی چمک کم کر دی تھی۔

ایک دن مہینے کا سودا لا کر وہ ٹیرس میں خاموش بیٹھی تھی۔۔۔۔ آج وہ سودا رکشے میں نہیں بلکہ پیدل اٹھا کر لائی تھی۔۔ رکشے کا کرایہ بھی اب بوجھ تھا۔ سامنے پھیلے شہر کی روشنیوں کو دیکھتے ہوئے اس کے دل میں کئی سوال اٹھ رہے تھے۔
“اس ملک کے غریب لوگوں کا آخر قصور کیا ہے؟
کیوں ہر مشکل کا بوجھ انہی کے کندھوں پر آتا ہے؟
کب بدلیں گے یہ حالات؟
کب محنت کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی؟
کب غم کے یہ بادل چھٹیں گے اور روشن سویرا طلوع ہو گا؟”

فرحی نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لی۔ آنکھوں میں آتے دو موٹے موٹے آنسو اپنے دوپٹے میں جذب کیے، اور میاں کو دوا کھلانے چل دی۔