جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم!!!
مجھے ہر طرف یہ درد بھری آواز اور فریاد کانوں میں گونجتی سنائی دیتی ہے۔ کبھی غور ہی نہ کیا تھا، سمجھ نہیں آتے تھے یہ الفاظ، لیکن نہ جانے خود ہی ذہن میں آنے لگے۔ بڑھتی مہنگائی میں بے سکون معاشرے کی حقیقت بتانے لگے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ شاید میں نے ہی گایا ہو، لیکن نہیں، یہ میرے زخمی دل کی آواز تھی جو اب سمجھ آنے لگی ہے۔ فل سطی ن کا غم اور زخم ابھی تازہ ہیں۔ اللہ ان کی مدد فرما، ہمیں ان کا غمخوار بنا۔
لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے، بلکہ ہمارے حکمران خود اپنے ملک میں، اور کراچی میں، کس قدر مسائل بڑھاتے چلے جا رہے ہیں!! ناقابلِ برداشت حد تک، جو پہلے کبھی اتنے نہ تھے۔ اتنی مہنگائی، اور اتنی من مانی، جتنا چاہو لوٹو عوام کو۔ کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں ہے؟ اب تو پانی سر سے گزر چکا ہے۔
فلسطین تین سالوں سے جل رہا ہے، اور یہاں صرف بیان بازیاں؟
بجائے اس کے کہ فلس ط ین اور غ۔زہ کے مظلوموں کی دادرسی کے لیے کچھ کیا جاتا، یہاں اپنی ہی عوام کو ظلم تلے دبایا جا رہا ہے!!! چند لوگوں کی اجارہ داری نے پورے ملک کا سکون درہم برہم کر دیا ہے۔ تمام وسائل کو قابو کیے ہوئے ہیں۔ انہیں احساس بھی نہیں ہے کہ عوام کیسے زندگی گزار رہے ہیں؟ جیتے جی لوگوں کو بے بس کر دیا ہے۔
نوکریاں نہیں، گیس نہیں، پانی نہیں، بجلی نہیں، ٹیکسز کی بھرمار، کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال کی سنگینی بڑھتی جا رہی ہے، لیکن حکمرانوں کے پاس کوئی لائحۂ عمل نہیں، کوئی منصوبہ بندی نہیں، کوئی حکمتِ عملی نہیں، کوئی تحفظ نہیں، کوئی سیکیورٹی نہیں۔ اس طرح کیسے ملک چلے گا؟
کچھ تو کرنا پڑے گا! کیا ہم اسی طرح سہتے رہیں گے؟
ہمیں کیا حکم دیا ہے ہمارے نبی پاک ﷺ نے کہ ظلم کو ہوتا ہوا دیکھو تو ہر ممکن روکنے کی کوشش کرو، ہاتھ سے، زبان سے، قلم سے، روکنے کی جتنی ممکن ہو سکے کوشش کرو۔ نہیں تو کم از کم دل سے ہی برا جانو، اور اپنے رب سے ہر وقت دعا کرو، حالات کو بدلنے کی کوشش کرو۔
منظم اور متحد ہو کر، سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو کر، حکمت سے کام لیتے ہوئے ظلم کو روکیں، صالح قیادت لائیں۔
اللہ حالات بدلنے پر قادر ہے، لیکن ہمیں بھی تو اس کے حکم پر عمل کرنا ہوگا!! ظلم کی زنجیریں خود بہ خود ٹوٹ کے نہیں گرتیں، بدلی جاتی ہیں۔۔۔
تقدیر کو بدلنے کے لیے دعاؤں کے ساتھ ساتھ جدوجہد بھی کرنا ہوتی ہے۔۔۔
ہمیں بگڑے ہوئے کو سدھارنا ہے۔ اس کے لیے پہلے خود سدھریں، تو ماحول بھی درست ہوگا، اور حکمرانوں کو بھی سدھرنا پڑے گا۔ یہ سب کام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اب وقت کا انتظار نہ کریں، بلکہ اپنے وقت کو خود بدلیں۔
ہمیں ہی آگے بڑھنا ہوگا، اور اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
رات کتنی ہی اندھیری ہو، صبح کی روشنی ایک نئی سحر کو جنم دیتی ہے۔۔۔ روشنی کی ایک کرن گھپ اندھیرے کو مٹا دیتی ہے۔۔۔
ہمت سے، حوصلے سے، اعتماد سے، اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے، اپنی ایمانی حمیت و غیرت کے ساتھ، اللہ کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے ظلم کو روکنا ہے۔۔ اس ظلم کے نظام کو بدلنے کے لیے ہر سطح پر منظم جدوجہد کرنی ہوگی!!!
**ابابیلیں ہیں ہم**
بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر،
کوئی کنکر، کوئی پتھر،
ذرا ان ہاتھیوں کے لشکروں پر پھینک دیں، اور پھر
اُفق کے پار جا پہنچیں،
جہاں ساروں کو جانا ہے،
حساب اپنا چکانا ہے!
ہمیں لیکن___
محض زخمِ جگر اپنا دکھانا ہے، پھر اُس کے بعد کی دنیا کا ہر منظر سہانا ہے!





















Add Comment