Home » blog page » بلاگ » داستانِ اقصیٰ- ماریہ حسان
بلاگ

داستانِ اقصیٰ- ماریہ حسان

رات کسی پہر اسکی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک انجان جگہ پر دیکھ کر بہت زور سے چیخ ماری،
“مجھے یہاں نہیں رہنا، مجھے یہاں سے لے جاؤ۔ یہاں کیوں آئے ہو موسی؟، یہ لوگ مجھے بھی مار دینگے، ہمیں بھی جلا دینگے۔۔ بھاگو یہاں سے۔”
وہ تیزی سے کیمپ کی چادر کھینچتے ہوئے بھاگی۔ اسکا شوہر گہری نیند میں تھا، اسے بھاگتا دیکھ کر اسکے پیچھے دوڑا۔ آس پاس کے کیمپوں سے لوگ بھی جاگ گئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں سے ہاجرہ کی بے بسی کو تکتے رہے۔

اسکے شوہر نے بھاگتے ہوئے اسے مضبوطی سے پکڑا اور کیمپ میں لے آیا۔ وہ اب بھی چیخے جارہی تھی۔ جلدی سے پانی کی چند بوندیں چہرے پر پھینکی اور اسے پھر سے دلاسے دینے لگا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا، وہ محفوظ ہے اب۔
مگر وہ روئے جارہی تھی اور ایک ہی بات دہرا رہی تھی، “ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ یہاں سے بھاگ نکلو، ہمارے بچے مر جائینگے۔ میرا انس کہاں ہے؟ اسے بلاؤ، میری فاطمہ، بلال، بلال۔۔ بلال بچے کہاں ہو؟ اندر آؤ، تمہیں گولی لگ جائے گی۔۔”
اس کے شوہر نے جلدی سے دوا کی ایک گولی اسکی زبان پر رکھی اور پانی پلایا۔ کچھ منٹ بعد وہ نیند کی وادی میں چلی گئ۔۔
کچھ دن ہوئے تھے انہیں مصر کے اس کیمپ میں مقیم ہوئے۔ غزہ کے اندر رہتے ہوئے جو اذیتیں اور تکلیف اس کے خاندان نے سہی، اس کے بعد کسی بھی انسان کی ذہنی حالت یقینی ہے۔

وہ ایک کمزور عورت بالکل بھی نہ تھی، چٹان جیسا حوصلہ تھا اسکا۔۔ اسکے والد مزاحمتی تحریک کے پیش پیش ساتھیوں میں سے تھے، اس نے اپنے والد کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتا دیکھا، تب اسکی ماں ام کلثوم کا صبر مثالی تھا۔ انہوں نے اس کے 7 بہن بھائیوں کو بڑے ہمت و حوصلے سے سنبھالا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہاجرہ کا حوصلہ بھی چٹانوں جیسا تھا۔
اسکا سب سے بڑا بیٹا بلال جو 18 سال کا تھا، جرنلزم کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بیٹی فاطمہ 16 سال کی حافظہ جس نے میڈیکل میں داخلہ لیا تھا، اور سب سے چھوٹا بیٹا انس جو صرف 9 سال کا تھا۔
دو سال سے مسلط جنگی جرائم میں اسکے خاندان کے کئ افراد شہید ہوچکے تھے۔ سب کی لاشوں پر نوحا پڑھتے، اسے نہیں معلوم تھا کہ کب انکے لخت جگر بھی ان سے یوں بچھڑ جائینگے۔
دو کمروں کے خستہ حال فلیٹ میں، جسے کئ بار اس ر ا ئ ل نے نشانہ بنایا، مگر بلڈنگ کے چند اطراف کے سوا کسی کو نقصان نہیں پہنچا تھا، ہاجرہ اور اسکا شوہر منہ اندھیرے آ ٹے کی لائن میں لگنے اور پانی کی بوتلیں بھرنے کے لیے نکلے تھے۔۔ (انکے نلکوں میں پانی یا چلہوں میں گیس تو اب خواب ہوچکے تھے۔)

دو چار گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ دونوں اپنی مطلوبہ خوراک حاصل کر کے گھر کی طرف روانہ ہورہے تھے کہ اچانک زوردار آواز اور پھر چاروں طرف دھوئیں کے بادل۔ آواز اتنی زوردار تھی کہ سب لوگ زمین پر گرے۔
اچانک لمحہ بھر میں آگ پھیل گئی۔ اسکے شوہر موسی کو بچوں کی فکر ستانے لگی۔ وہ تیزی سے بلڈنگ کی طرف دوڑا۔ ہاجرہ بھی چیختی چلاتی اپنے بچوں کو صدائیں لگاتی بھاگی۔
مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ آگ اتنی پرزور تھی کہ بادلوں کو چھو رہی تھی۔ لوگ چاہ کر بھی اپنے پیاروں کو بچانے سے قاصر تھے۔ محلے کے لوگ اپنے گھروں سے جمع کیے ہوئے پانی پھینک رہے تھے، مگر وہ آگ ایسی نہ تھی جو چند بوتلوں سے بجھتی، وہ تو ایک الاؤ تھا جو مزید بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔
ہاجرہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور تیزی سے بلڈنگ کی طرف آگ میں کودنے ہی والی تھی کہ کسی نے اس کو برقعے سے پکڑ کر زور سے پیچھے دھکیلا۔ وہ بے ہوش ہوگئ۔
آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے آپ کو ایک انجان ڈسپینسری کے بستر پر پایا۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ کہاں پر ہے۔ کچھ یاد آنے پر وہ ایک دم سے اٹھ پڑی اور چیخنے لگی، “میرے بچے انس، کہاں گئے میرے بچے، بلال فاطمہ کہاں ہو؟؟ کوئی ہے۔۔ مجھے میرے بچے لادو، کوئی انکے زندہ ہونے کی نوید سنا دو یا مجھے ان کے پاس بھیج دو۔”

اس کا شوہر موسی اس کے لیے کچھ دوا لینے کے لیے گیا ہوا تھا۔ کچھ نرسوں نے بمشکل اسے قابو کیا اور نیند کا انجکشن دیا، تو وہ پھر سے سوگئ۔۔
ڈاکٹر کے مشورے سے موسی ہاجرہ کو مصر کے اس کیمپ میں لے آیا۔ یہاں ف ل س ط ی ن سے آئے ہوئے ہزاروں بے گھر خاندان اپنے بچ جانے والے پیاروں کو علاج کی غرض سے لے کر آئے تھے اور پناہ بھی لیے ہوئے تھے۔
موسی بھی اپنے بچوں کے صدمے اور ہاجرہ کی اس حالت سے بہت مضطرب رہتا، جبھی اس کے غم کو ہلکا کرنے اور علاج کی خاطر کئی دنوں کی مشقت و مصافت طے کر کے یہاں دو دن پہلے ہی پہنچا تھا۔
حالات نے اسے بہت مایوس کردیا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ہاجرہ جیسے مریض جس ذہنی کیفیت کا شکار ہیں، انہیں اس ٹراما سے نکلنے میں مسلسل تھراپی اور مہینوں درکار ہوتے ہیں، مگر امید ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔
اسی امید پر موسی ایک نئے حوصلے کے ساتھ زندگی تنہا زندگی جی رہا ہے۔