یہ جملہ فقط ایک بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک نظریہ ہے۔۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی بناء پر جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہی ہونا بنتا تھا، جو کہ آج تک تشنہ تکمیل ہے۔ پاکستانی ریاست اور عوام کشمیر کے تنازع کو تقسیمِ ہند کا نامکمل باب اور اہم ترین سیاسی و سفارتی ہدف مانتے ہیں۔ کشمیر ایک بڑی مسلم اکثریتی ریاست تھا جسے تقسیم کے وقت اصولی طور پہ پاکستان کے ساتھ ملنا تھا لیکن دشمن کی عیاری و دھوکہ بازی نے کشمیر کو پاکستان سے جبرًا علیحدہ کر دیا ۔
پاکستان کے عسکری اور سیاسی رہنما پاکستان بننے سے لے کر پچھلے چند سالوں تک اس عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ 1846ء میں انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کیا جس کے خلاف کشمیری عوام نے پہلے دن سے آواز اٹھائی۔ 13 جولائی 1931ء کو مہاراجا کی غنڈہ گردی کے خلاف سرینگر جیل کے باہر اذان دینےکی پاداش میں 22 مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جو یومِ شہداء کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔19 جولائی 1947ء کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سرینگر میں سردار محمد ابراہیم خان کے گھر پر پاکستان سے الحاق کی تاریخی قرارداد منظور کی۔کشمیریوں کی تحریک کو ہمیشہ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کا نامکمل باب اور تکمیلِ پاکستان کا استعارہ سمجھا گیا۔ 1947ء میں جموں کے مسلمانوں کا ہولناک قتل عام کیا گیا ۔ لاکھوں افراد نے ہجرت و شہادت کا راستہ چنا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری نوجوان، بزرگ اور خواتین کشمیر میں جاری بھارتی تسلط اور مظالم کے خلاف اپنی جان، مال اور عزت کی قربانیاں دے کر شمعِ آزادی کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر پاکستان کیلئے جغرافیائی، معاشی،اور نظریاتی ہر لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کے اہم دریائے سندھ، جہلم اور چناب یہیں سے نکلتے ہیں۔پاکستان کا انحصار یہاں سے آنے والے دریاؤں پہ ہے جو ملک کی زرعی معیشت کی بنیاد ہیں۔جغرافیائی قربت اور سلامتی کے علاوہ دونوں خطوں کے عوام کے درمیان گہرےمذہبی و ثقافتی رشتے ہیں۔بھارت کا کشمیر پہ تسلط پاکستان کیلئے دفاعی خطرہ ہے۔کشمیر پاکستان کی سلامتی کا ضامن ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی “شہ رگ” قرار دیا اور تاحیات اسے بھارتی تسلط سے آزاد کرانے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت دلانےکے لیے سیاسی و عملی سطح پر بھرپور جدوجہد کی۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے فعال رہنما کے ایچ خورشید کو اپنا ذاتی سیکرٹری مقرر کیا، جو کشمیر کے ساتھ آپ کی گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب بھارتی افواج نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا، تو قائد اعظم نے پاک فوج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گری کو کشمیر میں فوج داخل کرنے کا واضح حکم دیا تھا۔ زیارت میں علالت کے دوران آپ نے فرمایا تھا:
“کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی ملک یا قوم یہ برداشت نہیں کرے گی کہ اس کی شہ رگ دشمن کی تلوار کے نیچے رہے”۔ آپ نے کشمیری مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں فرمایا تھا “مجھے جموں و کشمیر کے عوام کی بیداری دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ ایک آزادی پسند جو اپنے عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے، لازمی طور پر آپ کی کاوشوں کا خیرمقدم کرے گا اور میں آپ کی تحریک کی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔
“آخری ایام کی تشویش”
محترمہ فاطمہ جناح کی کتاب ‘مائی برادر’ کے مطابق، قائد اعظم بسترِ مرگ اور نیم بے ہوشی کے عالم میں بھی زیرلب فرماتے تھے کہ
“کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کا حق ملنا چاہیئے”۔
مسلم اکثریتی خطہ ہونے کی بناء پہ کشمیریوں کی حمایت نظریہ قیام پاکستان کی رو سے ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمان 79 سالوں سے بھارت کے شدید ترین ریاستی جبر، آبادیاتی تناسب بدلنے کی سازشوں، مواصلاتی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کررہے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے ڈومیسائل اور زمین کے قوانین میں تبدیلی کا مقصد مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اور گھروں کی مسماری روز کا معمول ہیں۔حریت قیادت قید میں ہے، جبکہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔حریت رہنما سید علی گیلانی نظربندی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔۔ آسیہ اندرابی خاتون رہنما تک کو قید کی سزا سنادی ۔ مساجد اور دینی اداروں کی تلاشی و بندش کے ذریعے مذہبی آزادی کو سلب کوکیا جا رہا ہے۔
مسئلہ جموں و کشمیر کا حل
_ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا انعقاد کیا جائے۔
_ 5 اگست 2019ء کے بعد کے تمام آئینی و انتظامی غصب شدہ اقدامات کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
_ وادی سے بھارتی فوج کا انخلاء اور کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔
_ عالمی اداروں (جیسے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور او آئی سی کو زمینی حقائق کی تحقیقات کے لیے رسائی دی جائے.
_ اور انصاف پہ مبنی رپورٹ تیار کر کے دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے۔
14 اگست کے دن آزادی کی خوشی میں اپنے مظلوم کشمیری مسلمانوں کو یاد رکھنا ہمارا مذہبی، قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اسی طرح تکمیل پاکستان کی راہ ہموار ہوگی۔ عظیم حریت راہنما علی گیلانی کے پاکستان سے محبت سے لبریز نعرے کشمیر کی آزادی تک ہمارے دلوں میں گونجتے رہیں گے۔
ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے
کشمیر بنے گا پاکستان …..ان شاءاللہ





















Add Comment