Home » blog page » بلاگ » تقسیم نہیں آزادی – ڈاکٹر عزیزہ انجم
بلاگ

تقسیم نہیں آزادی – ڈاکٹر عزیزہ انجم

اگست 1947 بر صغیر کی تقسیم کا مہینہ نہیں برطانوی غلامی سے آزادی کا مہینہ ہے ۔ انگریز جس وقت ہندوستان آئے تھے وہاں مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ مسلم حکمرانوں نے ہندوستان کی تعمیر اور ترقی کو بام کمال تک پہنچایا تھا ۔ نامور مصنف اور محقق پروفیس سلیم الدین لکھتے ہیں انگریز کے آنے سے پہلے ہندوستان میں سو فی صد ایجوکیشن تھی اور مفت تھی ۔ سلمان ندوی سیرت النبی میں وقف کے بارے میں لکھتے ہیں مسلمان امرا اور نواب پورے تعلیمی سسٹم کو مالی طور پر سپورٹ کرتے تھے ۔

مولانا مودودی رح اسلامی قانون نامی کتاب میں لکھتے ہیں ٹیپو سلطان کے دور تک چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا تھا ۔ شرعی قوانین نافذ تھے ۔ یہ تاریخی حقائق ہیں ۔ انگریزوں کے خلاف مزاحمت، جہاد اور آزادی کے لئے کوششوں میں مسلمان علما نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ،کالے پانی کی سزائیں کاٹیں ،بڑے بڑے علما سے انگریز افسران نے ذلت آمیز مشقتیں لیں ۔ کانگریس کی متحدہ ہندوستان کی کوششوں کی ابتدا،سے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے مطالبے تک طویل سیاسی سفر طے ہوا ۔ متحدہ ہندوستان میں مستقبل میں ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی سارے مسلمان لیڈرز کو صاف نظر آرہی تھی اور انصاف اور امن کے دعوے محض ایک نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں تھے ۔ 1857 کی جنگ آزادی ،مسلمانوں پر بد ترین مظالم کے تقریبا 90 سال بعد ایک صدی کی طویل جدوجہد کے بعد پاکستان وجود میں آیا اور سبز اور سفید چاند تارے والا پرچم فضا میں لہرایا ۔ پاکستان ہجرت کے شہیدوں کی قربانیوں کا حاصل ہے ۔

اور آج کے موجودہ ہندوستان میں اذان ، نماز،قربانی پر پابندی ،مسلمانوں کی تعلیم اور ترقی میں رکاوٹ، حجاب والی خواتین پر زیادتی سب اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان کا،قیام اللہ کی رحمت خاص تھی ،وقت کی ضرورت تھی ۔ پاکستان نعمت ہے نعمت ۔عظیم ہے ۔
پاکستان زندہ باد ،تابندہ باد