شام کے وقت عبداللہ باہر سے بھاگتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے اپنی دادی جان سے پوچھا کہ:
“کیا کل عید ہے؟ باہر بہت قمقموں اور لائٹوں سے سجایا ہوا ہے اور باہر بہت رونق ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کل عید ہے۔”
پھر دادی جان نے کہا کہ:
“ہاں! کل 12 ربیع الأول ہے اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم 12 ربیع الأول کو دنیا میں تشریف لائے تھے۔”
ربیع الأول کا مہینہ انتہائی بابرکت اور سعادت والا مہینہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ماہِ ربیع الأول میں پیر (دوشنبہ) 12 ربیع الأول 571ء میں موسمِ بہار کی ایک صبحِ صادق کے وقت، محبوبِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عظمت و بزرگی کے مرکزی شہر مکہ میں سیدہ آمنہ کے گھر ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد دنیائے انسانیت کے لیے باعثِ رحمت و برکت ہے۔ بی بی آمنہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ:
“ماہِ ربیع الأول میں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت ہوئی تو میرے اطراف نور ہی نور تھا۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لاتے ہی کائنات میں ہر سو اجالے بکھرنے لگے۔ اس کائنات میں حضور سرورِ کائنات، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیثیت بے مثال آفتابِ درخشاں کی ہے جو غارِ حرا سے طلوع ہوا اور ساری کائنات پر چھا گیا۔ آپ کائنات کی عظیم ترین شخصیت ہیں جن کی نظیر ازل سے ابد تک ممکن نہیں۔ آپ بے مثل نیرِ اعظم ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے خزان رسیدہ چمن میں بہار آ گئی۔ کائنات کا ذرہ ذرہ خاتم النبیین، امام الحرمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں مگن تھا؛ فرش و عرش کی تمام موجودات سجدہ ریز تھیں!
جب ان کی ولادت ہوئی تو نور کا ٹھٹھاٹے مارتا سمندر پوری کائنات میں موجزن تھا، جس کے لیے خالق نے کائنات کی تخلیق کی، جن کے وجود کی خاطر ارض و سما کا نظام بنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ایک نئی تاریخ وجود میں آئی، ایک سلجھی ہوئی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی گئی۔
یہ ایک منفرد نورانی ولادت تھی جس میں عجیب واقعات اور انوار و تجلیات کے ساتھ بہشتی خواتین کا بھی ظہور ہوا جنہیں حورِ عین کہتے ہیں؛ ان کے ہمراہ حضرت آسیہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا بھی تشریف لائیں اور جشنِ ولادت میں شرکت کی۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا ایک بہت عظیم و بے مثال ہستی ہیں جنہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ماں بننے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر ساعتِ سعید میں سارا گھر نور بن گیا، ہر شے رقصاں تھی اور ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی کہ نور کا ظہور ہونے والا ہے، جو ظلمتوں کو اجالے اور تاریکیوں کو روشنیاں عطا کرے گا؛ دلوں کو انوار اور نگاہوں کو بصیرتیں بخشے گا۔ وہ بے مثال ہو گا اور باکمال بھی، نہ اس جیسا ہوا ہے نہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے شبستانِ چمن منور ہو گیا جو مطلوبِ کائنات تھا۔ ایک ایسا نور پھیلا جس سے تمام ظلمتیں کافور ہو گئیں؛ آمنہ کا لال، عبداللہ کا یتیم آیا! وہ ہستی تشریف لائی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا، ایک عظیم انقلاب کی داغ بیل ڈالی گئی۔ باری تعالیٰ نے خود ولادتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر بزمِ کائنات میں جشن کا سماں پیدا فرمایا۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ سعادت کے وقت ستاروں کو نیچے اتار کر دنیا میں چراغاں کیا گیا، فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور آسمان میں زمرد اور یاقوت کا ایک ایک ستون قائم کر دیا گیا جس سے ہر شے روشن ہو گئی۔ پہاڑ فخر سے بلند ہو گئے، سمندروں میں روانی آ گئی اور موجیں اٹھنے لگیں؛ اور اہل زمین میں مبارک سلامت اور بشارت کا سلسلہ چل نکلا۔ آسمان اور جنت کے سب دروازے کھول کر عالمِ بالا کو خوشبو سے مہکا دیا گیا۔ مشرق و مغرب اور کعبے کی چھت پر پرچم لہرا دیے گئے۔
“محمد” کا لفظ اتنا پیارا اور حسین ہے کہ اس کے سنتے ہی ہر نگاہ فرطِ ادب سے جھک جاتی ہے، سر خم ہو جاتا ہے اور زبان پر درود و سلام کے زمزمے جاری ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لیے امان اور کائنات کے لیے سراجِ منیر ہیں۔12 ربیع الأول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مقدسہ کا مہینہ ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کا دن ہے۔ نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ با سعادت کا واقعہ انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے، جسے پہلی امتوں کے ہر دور میں بھی سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہے۔خواص و عوام اپنی دینی محفلوں میں بڑی دلچسپی اور محبت سے اس کا ذکر کرتے ہیں اور ایمان کی حرارت سے اپنے دلوں کو گرماتے ہیں۔
“اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو۔”(القرآن الکریم)





















Add Comment