Home » blog page » بلاگ » ایک شہر جو ہر روز تھوڑا تھوڑا بکھر رہا ہے – ثروت اقبال
بلاگ

ایک شہر جو ہر روز تھوڑا تھوڑا بکھر رہا ہے – ثروت اقبال

کل ملیر ہالٹ کے پل کے نیچے سے گزرتے ہوئے میری نظر ان لوگوں پر جا کر رکی مگر ٹھہری نہیں۔ نظر کبھی انسانوں پر نہیں ٹھہرتی، بلکہ اس نظام پر ٹھہر جاتی ہے جس نے انہیں اس حال تک پہنچایا۔ گرد آلود چہرے، پھٹے ہوئے کپڑے، گندگی کے درمیان پلتی ہوئی معصوم زندگیاں۔۔۔۔ یہ منظر کسی ایک انسان کی ناکامی نہیں، ایک پورے نظام کی ناکامی ہے۔ ان بچوں کا کیا قصور ہے جو صاف پانی، اچھی غذا، معیاری تعلیم، علاج اور باعزت زندگی کا حق لے کر پیدا ہوئے تھے، مگر انہیں ان میں سے کچھ بھی نہ مل سکا؟

کیونکہ ہر تھوڑے دن بہت ایسے ہی انسانوں کی کھیپ دور دراز شہروں سے گاڑیوں میں بھر بھر کر لا کر یہاں اتار دی جاتی ہے جو چند دن اس پل کے نیچے گزارتے ہیں اور پھر کراچی شہر کے اندر ادھر ادھر علاقوں میں بکھر جاتے ہیں اور انہیں کچی بستیوں کی صورت بسا دیا جاتا ہے۔ نہ ہی ان کے پاس تعلیم ہوتی ہے اور نہ کوئی ہنر ہوتا ہے وہ یا تو گداگر بنتے ہیں یا پھر جرائم پیشہ۔۔۔ جن کی کراچی میں بھرمار ہو چکی ہے۔افسوس ان لوگوں پر کم، ان حکمرانوں پر زیادہ ہوتا ہے جنہوں نے برسوں تک اپنے علاقوں کو جہالت، غربت اور محرومی کے اندھیروں میں رکھا۔ اگر ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر ضلع میں روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتیں میسر ہوتیں تو شاید کوئی اپنے گھر، اپنی زمین اور اپنی شناخت چھوڑ کر دربدر نہ ہوتا۔

اور پھر افسوس کراچی پر بھی ہوتا ہے۔۔۔یہ شہر پہلے ہی ٹوٹی ہوئی سڑکوں، پانی کی قلت، گندگی، ٹریفک، آلودگی اور بے ہنگم آبادی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس کے باوجود اس پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ نہ منصوبہ بندی نظر آتی ہے، نہ جوابدہی، نہ دور اندیشی۔ہر چند دن بعد کراچی کے کسی نہ کسی پل کے نیچے، کسی ریلوے لائن کے کنارے، کسی نالے کے ساتھ یا کسی خالی زمین پر اچانک نئی کچی بستیاں نمودار ہو جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رات کی تاریکی میں سینکڑوں بے بس انسان اس شہر کے حوالے کر دیے گئے ہوں۔ پھر وقت کے ساتھ یہی بستیاں پھیلتی جاتی ہیں اور کراچی، جو پہلے ہی اپنے وسائل سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے، مزید دباؤ کا شکار ہوتا جاتا ہے۔اور پھر سوال اٹھتا ہے:

آخر کب تک کراچی پورے ملک کی بدانتظامی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتا رہے گا؟
اگر آبادی کی منتقلی یا آبادکاری ہو رہی ہے تو کیا اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی، کوئی شہری پالیسی، کوئی جوابدہی بھی ہے؟
یا یہ شہر ہمیشہ کی طرح خاموشی سے ہر نئے بوجھ کو اپنے سینے پر سہتا رہے گا؟
کراچی صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، کروڑوں انسانوں کا گھر ہے۔ اس کے وسائل، اس کی سڑکیں، اس کا پانی، اس کی فضا اور اس کا نظام بھی ایک حد رکھتا ہے۔ اگر شہروں کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا تو نقصان صرف کراچی کا نہیں ہوگا، پورے ملک کا ہوگا۔

ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف بلند و بالا عمارتیں ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں ہر انسان کو صاف پانی، صاف ماحول، اچھی غذا، معیاری تعلیم اور باوقار زندگی میسر ہو۔ یہی وہ حقوق ہیں جو کسی حکومت کا احسان نہیں، بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہیں۔جب کراچی کے پلوں کے نیچے یہ منظر نظر آتا ہے تو میرا دل ان بے بس انسانوں کے لیے بھی روتا ہے اور اپنے شہر کے لیے بھی۔ کیونکہ دونوں ہی کسی نہ کسی شکل میں ایک ناکام نظام کے متاثرہ فریق ہیں۔