Home » blog page » بلاگ » یوم آزادی پاکستان – صبا احمد
بلاگ

یوم آزادی پاکستان – صبا احمد

آزادی ہر قوم کے لیے نعمت اور قدرت کا اک بہت بڑا انعام ہے۔ آزادی کی نعمت ہر قوم کا افتخار ہوتی ہے۔ خوشی کا دن ہوتا ہے جس کیلئے کئی نسلیں قربانی دیتی ہیں تب جا کے آزادی ملتی ہے ۔ آزادی کی نعمت کا ان قوموں سے پوچھیں جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے، ظلم وستم سہتے ہوئے اپنے دن رات گزارتی ہیں ۔جیسے کشمیر اور فلسطین کے مسلمان اس وقت اس ظلم کا شکار ہیں۔

سبز ہلالی پرچم جب آزاد فضاوں میں سر اٹھائے لہلہاتا ہے تو گویا یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ہم آزاد قوم کی حیثیت سے ، بلند حوصلوں کے ساتھ اس کی حفاظت کیلئے پر عزم و ہمہ وقت تیار ہیں۔ پاکستان کی خاطر ہمارے اسلاف نےآگ و خون کے دریا کو عبور کیا تب یہ آزادی حاصل ہوئی۔ کنویں ماؤں بہنوں کی لاشوں سے بھر گئے تھے دریا خون سے لال اور ٹرینیں شہیدوں کی لاشوں سے بھری ہوئی پاکستان کی سر زمین پر پہنچی تھیں ۔ہمیں 14 اگست 1947 کو رب کریم نے اس نعمت سے نوازا ۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں ،عظیم لیڈر قائد اعظم کی انتھک محنت اور بے لوث قربانی کا ثمر ہے۔ آج کشمیر اور فلسطین کے لوگ آزادی کے حصول کیلئےقربانیاں دے رہے ہیں ۔سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں فرانس جرمنی برطانیہ اور فرانس پاور میں آگئے ، مسلمان مغلوب ترکی میں سلطنت عثمانیہ بھی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔ انگریزوں نے مسلم ریاستوں کی اکثریت پہ بالواسطہ یا بلاواسطہ قبضہ جمالیا۔اسی طرح بر صغیر میں تجارت کی آڑ میں سازشوں اور چالاکیوں سے، غداروں کی ریشہ دوانیوں کے ذریعے 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کو شکست دے دی ۔ جس کے بعد مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔

برطانیہ نے ہندوستان پہ قبضہ کرلیا اور مسلم مملکت برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے ماتحت ہوگئی ۔ نوآبادیاتی نظام کے تحت کتنے ہی شہروں پر قبضے کر کر کے ان کی باگ ڈور سنبھال لی یعنی اپنا غلام بنا لیا ۔ یہاں کا ذخائر، خام مال کی صورت میں معدنیات سب برطانیہ بھیج دیا جاتا ۔ ہندوؤں کے ساتھ مل کر یہ سب ہوتا رہا۔ مسلمان غلامی اور زبوں حالی کا شکار ہوگئے۔ پھر علامہ اقبال ،علی برادران و دیگر رہنما اٹھے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ۔ انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ قوم کو سمجھایا کہ مسلم اور ہندو کبھی ایک ساتھ مل کر حکومت میں نہیں رہ سکتے ۔ دونوں کے طرز زندگی بالکل جدا ہیں۔ 1930کے مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں دو قومی نظریہ پیش کرکے تمام اقوام عالم پر عیاں کردیا کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں ۔ ھندو اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہے تھے ۔مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کا یہ بات قائد اعظم نے بھانپ لی تھی ۔تب ہی انہوں نے 1916میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر مسلم میں شمولیت اختیار کر لی پھر آزادی کا قافلہ لےکر وہ نئی منزل کی طرف گامزن ہوگئے . آخرکار 14اگست 1947کو ایک آزاد مملکت پاکستان لے کر ہی دم لیا۔ قائداعظم پاکستان حاصل کرنے کے ایک سال بعد یعنی 1948 میں ہی رحلت فرما گئے, لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک خود مختار آزاد اسلامی مملکت کا تحفہ دے گئے ۔پاکستان نے بہت کم وسائل و فوجی سازوسامان و اسلحے سے بھارت کی مسلط کردہ جنگیں لڑیں۔

پاکستان نے اپنی آزادی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے بیشمار ہیرے کھوئے لیکن اپنی آزادی پہ کوئی سمجھوتہ نہ کیا ۔ اس کے جوانوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کو اپنی سب سے پہلی ذمہ داری جانا بھارت کی ہٹ دھرمی آج تک جاری ہے ۔پاکستان نے نامساعد حالات کے باوجود ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی پاور بن گیا ۔ اس دفعہ یہ عزم کریں کہ ہم پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو اس کا جائز حق دلائیں گے تاکہ پاکستان کا ہر شہری باعزت زندگی گزار سکے اور اس کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ریے۔