ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر پارٹی کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو قومی اسمبلی کی 22 نشستوں سے استعفے دینے کا آپشن زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ تعاون کا مقصد عوامی مسائل کا حل ہے، تاہم اگر مسائل جوں کے توں رہے تو سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے بیان میں کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حکومت کے ساتھ اتحاد عوامی مفاد اور شہری مسائل کے حل کے لیے کیا تھا، لیکن اگر عوام کو ریلیف نہ ملا اور وعدے پورے نہ کیے گئے تو پارٹی اپنے سیاسی لائحہ عمل پر نظرثانی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ “اگر ہمارے مسائل حل نہیں کیے گئے تو پھر حکومت کا حصہ رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے اپنے تحفظات وفاقی حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں اور اب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اتحادی جماعت کے مطالبات اور تحفظات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دیے گئے اس سخت مؤقف سے حکومتی اتحاد کی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





















Add Comment