Home » blog page » نیوز » میر رضا علی کیس میں اہم انکشافات
نیوز

میر رضا علی کیس میں اہم انکشافات

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس سرجن کے مطابق مقتول کو سینے میں ایک گولی ماری گئی، جبکہ موت زیادہ خون بہنے سے ہونے والے شاک کے باعث واقع ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے، البتہ اس میں گلنے سڑنے کے آثار موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے مقتول کا موبائل فون تقریباً 200 گز کے فاصلے سے برآمد ہوا ہے، جبکہ ایک پستول کا ہولسٹر بھی ملا ہے۔ پولیس نے مقتول کا فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی ٹیلی کام کمپنی سے طلب کر لیا ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کی رات پی ای سی ایچ ایس سے آن لائن ٹیکسی کے ذریعے روانہ ہوئے تھے اور ٹیکسی ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ڈرائیور کے مطابق اس نے مقتول کو گلستانِ جوہر میں ان کے کچن پر اتارا تھا۔ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی، جبکہ تفتیشی حکام کے مطابق لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔