اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر زندہ دفن کی ہوئی بیٹی سے سوال کریں گے:
بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ
وہ کس گناہ میں ماری گئی؟
سوچتی ہوں، اللّٰہ نے اس مقام پر کسی اور رشتے کا ذکر نہیں کیا، ایک بیٹی کا ذکر کیا۔ ایک معصوم جان کا ذکر کیا۔ ایک ایسے وجود کا ذکر کیا جس کے پاس اپنا دفاع کرنے کی طاقت بھی نہیں تھی۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ لیکن ہر روز پیش آنے والے یہ واقعات چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ بیٹیاں سانجھی نہیں ہوتیں۔ بیٹیاں اپنے ماں باپ کی امانت ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سب سے پہلے انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔ آج قبریں بدل گئی ہیں، مگر دفن ہونے والی اب بھی بیٹیاں ہی ہیں۔ کچھ زمین کے نیچے دفن ہوتی ہیں، اور کچھ رسموں، رویّوں اور غلط لوگوں کے ہاتھوں۔ کچھ کی جان لے لی جاتی ہے، اور کچھ کی شخصیت۔ کچھ کو قتل کر دیا جاتا ہے، اور کچھ کے خواب، صلاحیتیں، اعتماد اور مسکراہٹیں۔
ہر زندہ دفن ہونے والی بیٹی کی قبر مٹی میں نہیں ہوتی۔ بعض بیٹیاں ایسے گھروں میں دفن ہو جاتی ہیں جہاں ان کی قدر نہیں ہوتی، جہاں ان کی خوبیوں سے زیادہ ان کی خامیاں گنی جاتی ہیں، جہاں ان کے وجود کو نعمت نہیں، بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اور یاد رکھیے، صرف وہ بیٹی مظلوم نہیں جس کا جسم مار دیا جائے۔ مظلوم وہ بھی ہے جس کی آواز چھین لی جائے، جس کے خواب کچل دیے جائیں، جس کی صلاحیتوں کو دبا دیا جائے، جس کی خامیوں کے چرچے ہوں اور خوبیوں پر خاموشی اختیار کر لی جائے، اور جسے جیتے جی اپنے وجود کا ماتم کرنا پڑے۔ اور پھر ہم کہتے ہیں:
غلطی یہ تھی کہ وہ باہر کیوں گئی؟
نہیں!
مسئلہ بیٹیوں کا باہر جانا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ بنانے میں ناکام رہے ہیں جہاں ایک بچی محفوظ ہو۔
ہم اپنی بیٹیوں کو قید نہیں کر سکتے۔ انہیں زندہ رہنا ہے، سیکھنا ہے، آگے بڑھنا ہے، اور اپنے رب کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنائیں؛ ایمان میں مضبوط، شخصیت میں مضبوط، تعلیم میں مضبوط، اور اتنا بااختیار کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں۔اپنی بیٹیوں کو چھپانے کے بجائے ان کے لیے ایک محفوظ دنیا بنانے کی کوشش کریں۔ انہیں سانس لینے دیں۔ انہیں جینے دیں۔ انہیں وہ آسمان دیں جس پر وہ اپنے رب کی عطا کردہ صلاحیتوں کے ساتھ پرواز کر سکیں۔
اور یاد رکھیے، ہر وہ معصوم بیٹی جس پر ظلم ہوا، اور ہر وہ بیٹی جو خاموشی کے اندھیروں میں زندگی گزار رہی ہے، ایک دن اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔ اور اُس دن سوال صرف اُس سے نہیں ہوگا کہ تم کس گناہ میں ماری گئیں؟
ہم سے بھی پوچھا جائے گا:
“تم نے اپنی بیٹیوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑا تھا؟”





















Add Comment