محبوب نواسہءِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جگرِ فاطمہ اور فرزندِ علی رضی اللہ عنہ ایسے اہل بیعت میں سے تھے کہ اگر موروثی خلافت اور بادشاہت اسلام میں ہوتی تو سب سے پہلا ان کا ہی حق ہوتا.
خلیفہ امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنے دورِ خلافت کا عہدہ دے کر ایک بڑے اختلاف کو جنم دے دیا، جس کے لیے امام حسین رضہ کی بیعت ضروری تھی امام حسین رضہ نے اسلام کے برخلاف طریقے کو مسترد کرتے ہوئے بیعت سے انکار کیا. جو مخالفت اور خلافت کو زبردستی زورِ بازوِ تلوار سے مٹانے کا باعث بنی اور یزید کو حکومت تو کیا ملتی اللہ نے امام حسین رضہ کو منصبِ شہادت پر بٹھا کر ان کو دنیا و آخرت میں اعلی مرتبہ و مقام عطا کر دیا.
اے یزید تیرا تخت و تاج دو گھڑی کا تھا !
ہے آج بھی دلوں پر حکومت حسین(رضہ) کی
حق و باطل کی اس لڑائی میں ظالموں نے ظلم کی انتہا کر دی حسین رضہ مدینہ سے مکہ ہجرت کر گئے لیکن عراق کے کوفیوں نے آپ کو ہزاروں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی اور ساتھ دینے کا وعدہ کیا لیکن امام حسین رضہ کے کوفہ روانگی کے بعد راستے ہی میں تلوارنِ بنو امیہ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے اور امام حسین رضہ کو ان کے اہل و عیال جانثاروں کے ساتھ میدان میں تنہا چھوڑ دیا، ستم ظریفی ابن ِزیاد نے حُرّ (آدمی) کو ایک ہزار لشکر کے ساتھ آپ کے سامنے کھڑا کر دیا وہ اسے ایک میدان میں جہاں کوئی اوٹ اور پانی نہ تھا، دریائے فرات پر پہرہ بٹھا دیا.
ساحل تمام اَشک ندامت سے اَٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
یہ حالات دیکھ کر آپ رضہ نے واپسی کا ارادہ کیا، ستم ظریفی 2 محرم کو عمر بن سعید چار ہزار کی فوج لے کر کربلا کے اس میدان میں پہنچ گیا اور ادھر سے ابنِ زیاد نے اس کو گورنر کا لالچ دے دیا ، اور کہا ان کو بیعت لیے بغیر جانے نہ دینا، پانی بند کرنے کے ساتھ انکار کرنے پر تلوار اٹھانا جب کہ آپ رضہ کے ساتھ صرف خواص اور اعزہ تھے آغازِ جنگ سے پہلے آپ رضہ نے دعا کی، حق و باطل کی اس لڑائی میں ایک ایک کر کے سب شہید ہو گئے، حسین رضی اللہ عنہ تنہا رہ گئے.
تنہا کھڑا ہوں میں سر کربلا عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے
10 محرم کو آپ رضہ نے بھی جام شہادت نوش فرمایا آخر میں آپ کا جسدِ مبارک بغیر سر کے دفن کیا گیا ہے.
سجدہ روح کعبہ و ایمان تڑپ اٹھے
اے شان سے حسین نے گردن کٹا دی





















Add Comment