Home » blog page » بلاگ » خاموشی – مبینہ سلطان
بلاگ

خاموشی – مبینہ سلطان

چند سالوں سے زندگی کچھ الگ ہی ڈھنگ سے چل رہی ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ بے چینی اور بے ترتیبی کی وجہ کیا ہے۔ ہر طرف روشنی کے باوجود ایک گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے، جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ غم کی چادر تنی ہوئی ہے، ہماری خوشیاں روٹھ گئی ہیں، سب کچھ بناوٹی لگتا ہے۔

آئے دن کے حادثات نے لوگوں کے دلوں کو چور چور کر کے رکھ دیا ہے۔ انسانی جان کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے۔ جیسے جیسے ہم جدید دور میں قدم بڑھاتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ہم پریشانیوں میں گھرتے جا رہے ہیں۔ نہ جانے سکون کہاں چلا گیا ہے۔ ہر ایک ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار نظر آ رہا ہے۔ روز رات کو ایک خبر کے ساتھ سوتے ہیں تو دوسرے دن کوئی اور خبر اس سے زیادہ شدید تر نظر آتی ہے۔ ہم انسان ہیں، پر ایسا لگتا ہے کہ انسانیت شرمسار ہو رہی ہے۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم کسی شہر میں نہیں، بلکہ جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں پہ کبھی بھی کوئی درندہ آ کر کسی معصوم کو چیر پھاڑ دے گا۔اسی طرح سے ہم انسانوں کی باری لگی ہے۔ کبھی ٹینکر مافیا، کبھی کھلے مین ہول، کبھی ٹوٹی سڑکیں، اور کبھی موبائل اسنیچنگ، چوری اور ڈکیتی؛ یہ تو روزمرہ کا معمول ہے۔ نہ جان کی حفاظت ہے اور نہ ہی مال کی حفاظت، اور عزتیں بھی تو محفوظ نہیں ہیں۔عائشہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی۔ بچوں نے کہا، ’’ماما، آپ پریشان نہ ہوں، آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا۔‘‘ یہ تو روزمرہ کا معمول بن گیا ہے، پر اس کا دل ہول رہا تھا۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے کی ایک خبر نے جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا، اور اب اس پر دوسری خبر! اللہ، یہ کیا ہو رہا ہے؟ اے اللہ، ہم سب پر رحم کر دے!

اپنے بچوں کی اور اپنے پیاروں کی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ عائشہ زور زور سے دعائیں مانگ رہی تھی اور بچے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ اب تو اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔کراچی کی ایک ہی رات تھی، مگر شہر کے دو مختلف گھروں میں ایسی خاموشی اتری تھی، جس کی آواز بہت دور تک سنائی دے رہی تھی۔ایک ہفتے قبل سرجانی ٹاؤن میں دردناک واقع پیش آیا۔دروازہ بند تھا، مگر اندر ایک ماں اور اس کے تین بچوں کی ہنسی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔ باپ کفِ افسوس مل رہا تھا۔ اس کی زندگی مکمل تباہ ہو گئی تھی، وہ بھی لمحہ بھر میں۔دوسرا گھر احسن آباد میں تھا۔وہاں بھی ایک ہی خاندان — ایک ڈاکٹر، اس کی بیوی اور تین ننھی بچیاں۔پڑوسیوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جن کھڑکیوں سے ہر روز زندگی دکھائی دیتی تھی، آج وہاں موت کا سکوت کیوں طاری تھا۔ ایسے ہی اندوہ ناک موت دیکھنے والوں کے دل خون کے آنسو رو رہے تھے۔دونوں گھروں کے حالات مختلف تھے۔ایک واقعے میں تفتیش ایک قریبی رشتے دار تک پہنچی، جبکہ دوسرے گھر میں پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر پانچ زندگیاں ایک ساتھ کیسے ختم ہوئیں۔مگر ان دونوں گھروں میں ایک چیز مشترک تھی، وہ یہ:مرنے والوں کو یہ خبر نہیں تھی کہ اگلی صبح ان کی آخری صبح ہوگی۔اور یہی خیال عائشہ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔وہ کئی دنوں سے لوگوں کے بارے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر فیصلہ سناتی تھی۔
’’اس کے گھر میں تو بہت خوشی ہے۔‘‘

’’اس کے شوہر کی تو اچھی نوکری ہے۔‘‘
’’ان کے بچے کتنے خوش نصیب ہیں۔‘‘
’’فلاں شخص بہت کامیاب ہو رہا ہے۔‘‘
اسے لگتا تھا کہ ہر گھر کی کہانی وہ باہر سے دیکھ کر سمجھ سکتی ہے۔مگر ان دونوں واقعات کے بعد اسے پہلی بار احساس ہوا کہ—کھڑکی سے نظر آنے والی زندگی، گھر کے اندر کی حقیقت نہیں ہوتی۔وہ اپنے کمرے میں بیٹھی دیر تک خاموش رہی۔اسے اپنی پڑوسن یاد آئی، جس سے وہ چند دن پہلے حسد کر رہی تھی۔اسے اپنی ایک رشتہ دار یاد آئی، جس کے گھر کو دیکھ کر وہ کہتی تھی:
’’ان لوگوں کی زندگی تو مکمل ہے۔‘‘

پھر اس نے خود سے سوال کیا:
’’اگر ہر گھر کی دیوار کے پیچھے ایک ایسی جنگ ہو، جس کا مجھے علم ہی نہ ہو، تو میں کس بات پر حسد کرتی رہی؟‘‘
اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ ان واقعات سے عائشہ بری طرح غمگین ہو گئی تھی۔ دل پھوٹ پھوٹ کے رونے کا چاہ رہا تھا، اور وہ اپنے پچھلے رویوں پر بھی بڑی نادم تھی۔ اپنے شوہر سے بس اسی بات کے اوپر چرچا کرتی تھی کہ اس کو دیکھو، اس کو دیکھو، اس کو دیکھو! لیکن ہر چمچماتی چیز سونا نہیں ہوتی۔
اب وہ ان باتوں کو سمجھ چکی تھی کہ دنیا میں جو نظر آ رہا ہوتا ہے، اصل حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، اور ہم لوگوں کو دیکھ کر اور ان کی خوشحالی سے مرعوب ہو کر اپنے دل میں شکر کرنے کے بجائے ان کے خلاف جلن اور حسد کا جذبہ پال لیتے ہیں۔

اس رات عائشہ نے پہلی مرتبہ کسی دوسرے کی نعمت دیکھ کر دل میں یہ نہیں کہا:
’’کاش یہ میرے پاس ہوتی۔‘‘
بلکہ اس نے کہا:
’’یا اللہ، جو نعمت اسے دی ہے، اسے سلامت رکھ… اور میرے دل کو دوسروں کی نعمتوں کے بجائے اپنی نعمتوں کا شکر کرنا سکھا۔‘‘
صبح ہوئی۔شہر حسبِ معمول جاگ گیا۔گاڑیاں چلنے لگیں، دکانیں کھل گئیں، بچے اسکول جانے لگیں۔مگر دو گھروں میں صبح نہیں ہوئی تھی۔
عائشہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور دل میں سوچا:
’’ہم لوگ کتنی آسانی سے دوسروں کی زندگی سے حسد کر لیتے ہیں، جبکہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ شخص اپنی چار دیواری کے اندر کس آزمائش سے گزر رہا ہے۔‘‘

کیونکہ بعض اوقات جس گھر کو ہم خوشیوں سے بھرا ہوا سمجھ رہے ہوتے ہیں. وہ اندر سے مدد کے لیے پکار رہا ہوتا ہے۔اور بعض اوقات ہماری اپنی سب سے بڑی نعمت وہ ہوتی ہے، جسے ہم روز دیکھتے دیکھتے معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔حسد انسان کو دوسروں کی نعمتیں دکھاتا ہے، شکر اسے اپنی نعمتیں دکھاتا ہے۔اور عائشہ نے پہلی بار سمجھا کہ انسان کو دوسروں کی زندگی سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے. کیونکہ ہر گھر کے دروازے کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہوتی ہے، جس کا صرف اللہ کو مکمل علم ہوتا ہے۔