عثمان کراچی کے ایک تنگ سے فلیٹ میں رہتا تھا، ناظم آباد کے قریب ایک نجی ادارے میں کام کرتا اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ اس دن جب وہ دفتر سے نکلا تو اسکے دوست بلال کی کال اگئی۔ اسکے موبائل پر بار بار نوٹیفیکیشن آ رہی تھیں پر وہ در گزر کر رہا تھا کہاں وقت ہے ان جلسوں کے لئے پر یہ ہو تو رہے ہیں. ہمارے مسائل کے متعلق” لیوی ٹیکس اور عوامی مسائل ”
عثمان کے دوست بلال نے کہا،
“عثمان، آج جماعت اسلامی کے دھرنے میں حافظ نعیم الرحمن کچھ خاص اعلان کرنے والے ہے، منعم ظفر خان خود کارکنوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آؤ چل کر دیکھتے ہیں۔”
عثمان تھکن کے باوجود بلال کے ساتھ چلنے کے لیے راضی ہو گیا ، ٹریفک رکا ہوا تھا، اور دور تک جھنڈوں کا سمندر لہرا رہا تھا۔ ان دونوں نے بائیک ایک طرف کھڑی کی اور پیدل آگے بڑھ گئے . دن بھر حبس کی کیفیت نے فضا کو جیسے آگ کا گولہ بنا رکھا تھا۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی، سمندر کی نمی سے جسم پسینےسے شرا بور تھے عثمان کی قمیض پیٹھ سے چپک چکی تھی، اور مجمع میں کھڑے ہزاروں لوگوں کے چہرے پسینے سے تر تھے۔ سانس لینا بھی دشوار محسوس ہو رہا تھا، جیسے فضا میں کوئی بھاری چادر تنی ہو۔ کہیں کوئی بزرگ پنکھے سے خود کو ہوا دے رہا تھا، کہیں کوئی بار بار پانی کی بوتل منہ سے لگاتا۔ بچے ماؤں کی گود میں بے چین ہو رہے تھے، خواتین بھی دوپٹوں سے پسینہ پونچھ رہیں تھیں .
بلال نے پیشانی کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا:
“یار عثمان، آج تو گرمی نے جان نکال دی، بارش ہو جائے تو سکون آئے۔”
فضا میں نعروں کی گونج تھی۔ اچانک ایک طرف سے شور اٹھا — حافظ نعیم الرحمن تشریف لے آئے ۔ کارکنوں کا جوش دیکھنے کے لائق تھا. ہزاروں کارکن، حافظ نعیم الرحمن کے خطاب کے منتظر تھے عبایہ میں لپٹی خواتین جن میں سے کئی اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ وہ بھی اسی جوش سے نعرے لگا رہی تھیں، ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف پیغامات لکھے تھے۔اورجیسے دعا قبول ہوئی ،آسمان پر گہرے بادل چھا گئے ۔ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آسمان سے پہلی بوند گری، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلادھار بارش برسنے لگی۔
مجمع میں ایک لہر دوڑ گئی۔ کسی نے بلند آواز میں کہا:
“یہ باراں رحمت ہے، اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہے!”
لوگوں کے چہروں پر گھنٹوں کی تھکن اور حبس کی جگہ ایک عجیب سکون اور تازگی نے لے لی۔ عثمان نے آنکھیں بند کر کے بارش کو چہرے پر محسوس کیا جیسے آسمان نے ان کی محنت اور استقامت پر مہر لگا دی ہو۔ خواتین کے حصے میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی چھتریاں کھلنے لگیں، مگر بہت سوں نے جان بوجھ کر بارش میں بھیگنا پسند کیا۔ ایک بزرگ خاتون نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا:
“یا اللہ، ہماری حالت بدل دے جیسے تو نے اس گرمی کو بارش سے بدل دیا۔”
بارش نے پورے مجمع کو جیسے نئی روح بخش دی۔ نعرے جو حبس کی شدت سے کچھ ماند پڑ گئے تھے، اب دوبارہ زور و شور سے بلند ہونے لگے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا۔ پیٹرولیم لیوی کے نام پر وصول کیے جانے والے ٹیکس کو ہم ظالمانہ قرار دیتے ہیں اور کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت دی، اور اعلان کیا کہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مجمع نے تالیوں اور نعروں سے جواب دیا، بارش میں بھیگتے ہوئے بھی کوئی جگہ سے نہ ہلا۔حافظ نعیم الرحمن نے کارکنوں سے کہا :
“حکمرانوں سے مزاکرات کی حجت تمام ہو گئی،اب اسلام اباد مارچ ہوگا۔پاکستان کے 40 شہروں میں دھرنے جاری رہیں، اور اب سب اسلام آباد مارچ کی تیاری کریں۔”
عثمان نے پوچھا: “مطلب یہ یہیں نہیں رکے گا؟”
بلال نے سر ہلایا: “نہیں، انہوں نے 20 ستمبر کا اعلان کر دیا ہے۔اسی لمحے اسٹیج سے باضابطہ اعلان گونجا 20 ستمبر کو چاروں اعتراف سے اسلام اباد پہنچیں گے،اور اپنا حق لے کر واپس جائیں گے۔یہ سنتے ہی پورا مجمع بارش کے باوجود نعروں سے گونج اٹھا،انقلاب ائے گا ۔خواتین کے حصے میں بھی جوشیلے نعرے بلند ہوئے،بچوں کی اوازیں بھی ان میں شامل ہوگئیں ۔عثمان بھیگا ہوا چہرہ ایک نئے عزم کے ساتھ بلال کی طرف دیکھا،20ستمبر کو ہم بھی جائیں گے ۔بلال نے مسکراتے ہوئے پانی کی بوندیں صاف کی: ضرور اب واپسی کا سوال ہی نہیں “.
بارش تھمتی گئی،رات گہری ہوتی گئی،مگر گورنر ہاؤس کے سامنے کھڑے ہزاروں دلوں میں ایک ہی تاریخ روشن ہو چکی تھی۔





















Add Comment