Home » blog page » بلاگ » شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا – ہنیزہ قادر
بلاگ

شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا – ہنیزہ قادر

محرم الحرام کا مہینہ، جب سے دنیا بنی، اللہ تعالیٰ کے ہاں حرمت والے مہینوں میں شامل رہا ہے۔ محرم الحرام سے انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں کے کئی اہم واقعات وابستہ ہیں۔ یہودی 10 محرم الحرام کا روزہ اس لیے رکھتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملی، جبکہ فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق ہوگیا۔

رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں بھی 10 محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے، اور جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تب بھی آپ ﷺ نے یومِ عاشورہ کی فضیلت بیان فرمائی اور اس دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔اسلامی تاریخ میں جہاں یہ دن حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام تک کئی جلیل القدر انبیائے کرام سے منسوب رہا، وہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے محبوب نواسے، جنتی نوجوانوں کے سردار حضرت امام حسینؓ کو بھی یہ عظیم شرف عطا فرمایا کہ قیامت تک 10 محرم ان کی عظیم قربانی کی یاد کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

10 محرم الحرام اور شہادتِ امام حسینؓ گویا ایک ہی دن کی دو تاریخیں ہیں۔ ایک تاریخ حرمت والے مہینے کی، اور دوسری راہِ حق میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی۔ یہ اسلام کے سیاسی نظام کے تحفظ کی فکر و عمل کی تاریخ ہے، امانت کو اہل لوگوں کے سپرد کرنے کی تاریخ ہے، آمریت کے خلاف ڈٹ جانے کی تاریخ ہے، اور ظلم و جبر کے سامنے سر نہ جھکانے کا سبق ہے۔جب اسلامی ریاست کے بنیادی ستون کمزور کیے جا رہے ہوں، جب خلافت کی جگہ آمریت مسلط کی جا رہی ہو، جب آزادانہ انتخاب کے حق کو پامال کیا جا رہا ہو، یا نااہل لوگوں کی حکمرانی نافذ کی جا رہی ہو، تو یہ دن حق اور انصاف کے لیے میدانِ عمل میں اترنے کی یاد دلاتا ہے۔

یہ دن دنیا کو استقامت، جرأت اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ یہ ظالم کے سامنے نہ جھکنے، سر کٹوا کر بھی اسلام کا پرچم بلند رکھنے، اور دین کی سربلندی کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کی تاریخ ہے۔ یہی 10 محرم الحرام کا عظیم پیغام ہے۔جو نوحے پڑھے جاتے ہیں، وہ دراصل امام حسینؓ کی ناکامی کے نہیں، بلکہ اس عظیم تاریخی واقعے سے سبق نہ لینے پر ہماری اپنی غفلت کے نوحے ہیں۔ یہ ماتم امام حسینؓ کی شہادت کا نہیں، بلکہ امت کی پژمردگی، بے حسی اور سوئے ہوئے ضمیر کا ہے۔امتِ مسلمہ کو مایوسی اور گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکالنے کا راستہ یہی ہے کہ اپنے نوجوانوں میں امام حسینؓ جیسی جرأت، شجاعت، صداقت، عدل اور حق گوئی پیدا کی جائے۔ انہیں قیادت، ذمہ داری اور امت کی رہنمائی کے لیے تیار کیا جائے، تاکہ ہر تبدیلی اسلام کے اصولوں کے مطابق اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے ہو۔

نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اگر وہ حق پر ہوں تو ان کا تنہا کھڑا ہونا بھی کافی ہے۔ اگر انسان حق پر ثابت قدم رہے تو وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی باطل کو شکست دے سکتا ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، امر ہو جاتے ہیں، اور اسلام کی سربلندی کا تاج ان کے سروں پر سج جاتا ہے۔امتِ مسلمہ کی زندگی کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ حق کا پیغام دنیا تک پہنچائے اور اسے غالب کرنے کی جدوجہد میں اپنا جان و مال اللہ کی رضا کے لیے قربان کرے۔ یہی رب تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونے کا راستہ ہے، اور یہی حقیقی کامیابی اور اصل کیریئر ہے۔