Home » blog page » بلاگ » شہادت حسین ایک عظیم واقعہ – عشرت زاہد
بلاگ

شہادت حسین ایک عظیم واقعہ – عشرت زاہد

واقعہ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک زندہ فلسفہ ہے جو ہر دور کے انسان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ امام حسین کی شہادت رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بنیادی مقصد ذاتی اقتدار یا تخت و تاج کا حصول نہ تھا، بلکہ وہ اصولوں کی بقا کے لیے میدان میں اترے تھے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ اگر امام کو اپنی ذات مقصد سے زیادہ عزیز ہوتی تو وہ اسے قربان ہی کیوں کرتے؟ ان کی قربانی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جس مقصد کے لیے نکلے تھے وہ جان سے بڑھ کر عزیز تھا۔ وہ مقصد تھا، نفاذِ عدل اور انسان کے بنیادی حقوق کی بحالی۔ یزیدی نظام نے خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا تھا، امربالمعروف و نہی عن المنکر کا چراغ بجھ رہا تھا۔ امامؑ نے دیکھا کہ دین کی روح ختم ہو رہی ہے تو آپ نے یہ مشکل مگر دلیرانہ فیصلہ کیا۔شہادت کا تصور بھی اس فلسفے کو واضح کرتا ہے۔ شہادت موت نہیں، حیاتِ جاوداں ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ثابت کیا کہ باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنا حقیقی موت ہے اور حق پر ڈٹ کر کٹ جانا اصل زندگی ہے۔

آج خونِ حسین کا قرض چکانے کی واحد صورت یہ ہے کہ شعورِ کربلا کو ہر سطح پر زندہ رکھا جائے۔ یعنی ہم اپنے دور کی یزیدیت کو پہچانیں، چاہے وہ سیاسی جبر ہو، معاشی استحصال ہو یا فکری غلامی۔ ہر سال محرم میں غم منانا کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کو سمجھنا ضروری ہے جس کے لیے امام نے اپنے کنبے سمیت شہادت قبول کی۔ عظیم جزبہ، عظیم لوگ . کاش چڑھتے سورج کے پجاری یہ بات سمجھ سکیں کہ باطل کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ نام اسی کا زندہ رہتا ہے جو حق کی خاطر ڈٹ جائے اپنی جان کی پروا نہ کرے۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ انسان کو بیدار ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین۔ کیونکہ حسینؑ صرف شیعہ سنی کا نہیں، ہر مظلوم اور ہر حریت پسند کا امام ہے۔