Home » blog page » بلاگ » وقت کی قدر و اہمیت -‌صبا احمد
بلاگ

وقت کی قدر و اہمیت -‌صبا احمد

وقت ایک بیش بہا اور قیمتی خزانہ ہے۔ جس نے وقت ضائع کیا، گویا اس نے اپنی پہچان اور کامیابی کے مواقع بھی کھو دیے۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے ہمیشہ یہ سنا ہے کہ “وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔” یہ حقیقت ہے کہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

ایف ایس سی کے زمانے کی بات ہے۔ ہماری جماعت کی اکثر طالبات روزانہ دیر سے آیا کرتی تھیں۔ تقریباً ہر استاد کو اس بات کی شکایت رہتی تھی۔ ابتدا میں سزا کے طور پر انہیں کلاس سے باہر کھڑا کیا جاتا، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بعد ازاں اساتذہ نے فیصلہ کیا کہ انہیں کلاس کے اندر ہی پوری پیریڈ کھڑا رکھا جائے تاکہ ان کی پڑھائی بھی متاثر نہ ہو۔ اس کے باوجود طالبات کی دیر سے آنے کی عادت نہ بدلی۔

پہلا پیریڈ فزکس کا ہوتا تھا، جو نہایت اہم اور توجہ طلب مضمون تھا، مگر روزانہ نئے نئے بہانے سننے کو ملتے:
“آج بس دیر سے ملی۔”
“ابو کی موٹر سائیکل خراب ہوگئی۔”
“امی کی طبیعت خراب تھی، انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔”

آخرکار اساتذہ کا صبر جواب دے گیا۔ ایک دن اسمبلی کے بعد پرنسپل صاحبہ نے وقت کی اہمیت پر نہایت مؤثر خطاب کیا، جسے آج بھی ہماری کلاس فیلوز یاد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا:
“یاد رکھو! ہر گزرتا لمحہ قیمتی ہے۔ اگر زندگی میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان یا محقق بننا چاہتے ہو تو وقت کی قدر کرنا سیکھو۔ اگر وقت تمہارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر وہ تمہاری قدر بھی ختم کر دے گا۔”

انہوں نے وقت کو سمندر کی لہروں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لہریں اپنے ساتھ ریت میں چھپے خزانے ساحل پر لے آتی ہیں، اسی طرح وقت بھی انسان کے لیے بے شمار مواقع لے کر آتا ہے۔ اگر انسان بروقت ان مواقع سے فائدہ اٹھا لے تو کامیاب ہو جاتا ہے، ورنہ یہ خزانے دوبارہ لہروں کے ساتھ سمندر کی تہہ میں چلے جاتے ہیں۔

غور کیا جائے تو پوری کائنات وقت کی پابندی کی بہترین مثال ہے۔ سورج اور چاند اپنے مقررہ وقت پر طلوع و غروب ہوتے ہیں۔ دن اور رات، گرمی، سردی، بہار اور خزاں سب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق آتے اور جاتے ہیں۔مشہور کہاوت ہے:
“اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔”

اگر کسان وقت پر فصل نہ کاٹے تو پرندے اسے نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ اسی طرح جو انسان وقت پر اپنے فرائض انجام دیتا ہے، وہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔انسان ہی نہیں بلکہ پرندے اور جانور بھی صبح سویرے اپنے رزق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ مؤذن وقت پر اذان دیتا ہے، امام وقت پر نماز پڑھاتے ہیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے وقت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہیے، کیونکہ ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو وقت کی قدر جانتی ہیں۔جاپان کی ایک حقیقی مثال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ایک جاپانی تاجر نے ایک پاکستانی کے ساتھ کاروباری ملاقات طے کی۔ جاپانی شخص مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ گیا، مگر پاکستانی دس منٹ دیر سے آیا۔ ملاقات کے اختتام پر جاپانی نے کہا:

“آج میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور مجھے ان کے جنازے میں بھی جانا ہے، لیکن میں نے آپ کو وقت دیا تھا، اس لیے پہلے یہاں آیا۔ افسوس کہ آپ وقت کی پابندی نہ کر سکے۔”
یہی وقت کی قدر قوموں کی ترقی کا راز ہے۔اسلام بھی وقت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ہم پانچ وقت کی نماز مقررہ اوقات میں ادا کرتے ہیں۔ جو شخص جلدی سوتا اور صبح جلدی اٹھتا ہے، وہ جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ صحت مند رہتا ہے۔

قرآنِ کریم کی سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کی۔ یہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ انسان کو اپنی مختصر زندگی کا ہر لمحہ نیکی اور بھلائی میں صرف کرنا چاہیے۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام، خصوصاً جاپان اور چین، وقت کی پابندی کو اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھتی ہیں۔ اگرچہ انہوں نے دنیاوی میدان میں بے پناہ ترقی کی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس، طب، فلکیات، ریاضی، کیمیا، جغرافیہ اور جراحی جیسے علوم کی بنیاد مسلم سائنس دانوں نے رکھی تھی۔ ان کی تحقیقات آج بھی جدید سائنس کی اساس ہیں۔

بدقسمتی سے جب مسلمانوں نے علم، محنت اور وقت کی قدر چھوڑ کر عیش و عشرت کو اپنا شعار بنایا تو ان کا زوال شروع ہوگیا۔ اندلس کا سقوط، غرناطہ کی تباہی اور چنگیز خان کی یلغار تاریخ کے وہ المناک ابواب ہیں جو ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ وقت کی ناقدری قوموں کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔اس کے برعکس نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگیاں وقت کے بہترین استعمال کی مثال ہیں۔ دن میں جہاد، رات کو عبادت، اور ہر لمحہ امت کی خدمت ان کا معمول تھا۔ حضرت عمر بن خطابؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ کوئی بھوکا یا مظلوم نہ رہ جائے۔

زندگی اور موت کا بھی ایک مقررہ وقت ہے، اور قیامت بھی اپنے مقررہ وقت پر آئے گی۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو مفید کاموں میں صرف کرے۔کراچی یونیورسٹی کے معروف اردو محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ انہیں اٹلی اور جاپان کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دینے کا اعزاز ملا۔ ان کے مطابق ان کی علمی کامیابیوں کا ایک بڑا راز وقت کی پابندی، منظم زندگی اور مسلسل محنت ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت کی پابندی، دلچسپی اور توجہ کے ساتھ علم حاصل کرنے والا انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو وقت کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کو منظم، باوقار اور کامیاب بنا سکیں۔

وقت اک بہتا دھارا ہے
اس کا رخ کس نے جانا ہے
وقت کی اگر کرتے ہو قدر
پھل ضرور اس کا ملتا ہے