Home » blog page » بلاگ » خواتین کے مسائل او ر ان کا حل – نزہت ریاض
بلاگ

خواتین کے مسائل او ر ان کا حل – نزہت ریاض

اسی ہفتے کے شروع میں ایک نوجوان لڑکی جو بنگلے میں ماسی کا کام کرتی تھی اس کی مالک کے بیٹے کی حیوانیت کے نتیجے میں موت واقعہ ہو گئی۔ آج کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر پر ہسپتال کے ہی لفٹ آپریٹر نے تیزاب سے حملہ کر دیا . پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے یہاں مغربی ممالک کے مقابلے میں تو خواتین کو ذیادہ محفوظ ہونا چاہیے نہ کہ آئے دن ایسے روح فرسا واقعات سننے میں آئیں.

اسلام نے تو خواتین کے بے انتہا حقوق رکھے ہیں یہ تو ہمارا بے حسی معاشرہ ہی ہے جو ان خواتین کا احترام نہیں کرتا جو گھر سے نکل کر کچھ کرنا چاہتی ہیں ۔ جہاں ہم ایک غریب گھرانے کی بچی کو غیر محفوظ دیکھ رہے ہیں وہیں ایک پڑھی لکھی لیڈی ڈاکٹر وہ بھی کوئٹہ جیسے علاقے میں جہاں بہت مشکل سے عورت کو پڑھائی کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کتنی مشکلوں اور رکاوٹوں کو پار کر کے یہ بچی ڈاکٹر کی ڈگری کا حصول کر سکی ہوگی کیا اس دن کے لئے کہ ایک درندہ اس کے خوابوں کو تیزاب کی آگ سے جھلسا ڈالے ایک ڈاکٹر ہو کر بھی ایسے شقی القلب سے محفوظ نہیں رہ سکے۔اب اس طرح کے پسماندہ جگہ کے والدین کس حوصلے سے اپنی بچیوں کو پڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آخر ہم پستی میں کیوں گرے جا رہے ہیں کیوں ہم خواتین کا احترام کرنا بھولتے جا رہے ہیں ؟
میرے خیال میں سب سے بڑی غلطی تربیت کی کمی کی ہے ہم اپنے گھر کے بچوں کو گھر سے ہی ماں اور بہنوں کے احترام کا سبق سکھایا کریں تو وہ یقیناً باہر کی خواتین کا بھی احترام کریں گے۔ گھر سے باہر جانے والی خواتین پر بھی کچھ حدود عائد ہوتی ہیں انہیں بھی لازمی ان حدود کی پاسداری کرنی ہی چاہیے ۔ گھر سے باہر کے مرد آپ کے لیے نامحرم ہیں ان سے ایک مخصوص فاصلہ رکھنا ضروری ہے نہ ان سے ہنسی مذاق کریں نہ فالتو بات تاکہ وہ کبھی آپ سے بے تکلف ہونے کی کوشش نہ کریں ۔

اگر آپ کے گھر والوں نے آپ کو باہر نکلنے کی اجازت دی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ شتر بے مہار ہوکر اس آزادی کا فائدہ اٹھائیں بلکہ یہ آپ کا فرض ہے کہ اپنے حلیے اپنے طرز عمل سے ان کے دیے ہوئے اعتماد کو برقرار رکھیں۔کچھ خرابی یہاں کے کمزور قانون کے سسٹم کی ہے جہاں بڑے سے بڑا جرم کر کے بھی مجرم کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں انہیں تسلی ہوتی ہے کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ اگر اسلامی معاشرے میں شرعی سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تو کوئی بھی خواتین کے ساتھ برا کرنے سے پہلے دس بار ضرور سوچیے گا.

ہمارا ملک ایک گلے سڑے نظام کے تحت چل رہا ہے .ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے ہاتھ مضبوط کریں جو سچائی کے ساتھ عوامی مفاد کا کام کر رہے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی منظم جدوجہد ہی سے مطلوب ہے.