Home » blog page » بلاگ » سلام ہے شہداء کربلا کی عظمت کو – افروز عنایت
بلاگ

سلام ہے شہداء کربلا کی عظمت کو – افروز عنایت

غور طلب بات ہے کہ 72 افراد پر مشتمل لشکر جو سامان حرب سے بھی محروم تھا کیسے لشکرِ یزید سے ٹکرا گیا . یقیناً یہ ایمان کی طاقت تھی جس کی وجہ سے حوصلے بلند تھے جرات و حوصلے و غیرت کے ساتھ صبر واستقامت کی دولت سے مالا مال یہ اللہ کے نہتے لاڈلے بھوکے پیاسے جیالے یزید کے لشکر کے سامنے ڈٹے رہے.

اپنی خواہشات نفس کے لئے نہیں ،نہ ہی انہیں اقتدار کی ہوس تھی بلکہ دین اسلام کی بقا ،عظمت و سلامتی کے لئے یہ سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے . ماشاءاللہ . اس لشکر کربلا میں 72 افراد میں سے بیس کا تعلق بنو ہاشم کے خاندان سے تھا جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے جنہیں چار پانچ دنوں سے نہ کھانا اور نہ پانی میسر تھا کس طرح آپ کے معصوم اصغر کو اپنوں کے سامنے تیروں سے چھلنی کر کے شہید کردیا گیا اس وقت کیا گزری ہوگی ماں باپ کے دلوں پر . ہم اپنے لخت جگروں کی معمولی چوٹ اور زخم دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں علی اصغر کے نازک بدن کو تو تیروں سے چھلنی کر دیا گیا تھا وہ معصوم ہستی کس درد وہ تکلیف سے گزری ہوگی.

ایک کے بعد ایک آپ کے (حسین رضی تعالیٰ عنہ کے) پورے خاندان کو شہید کردیا گیا. لیکن آپ کمزور نہیں ہوئے نہ پیچھے ہٹے. آخر دس محرم الحرام کو آپ کو بھی شہید کردیا گیا، 56 سال 5مہینے کی عمر میں دس محرم الحرام کو نانا کی جان کو رب العزت نے شہادت کے رتبے سے سرفراز فرما کر رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لئے عظمت و استقامت جرات و بہادری کی زندہ مثال بنا دیا. کربلا کے اس معرکے میں سوائے آپ کے بیمار بیٹے حضرت زین العابدین کے جو بیماری کی وجہ سے اس جنگ میں حصہ نہیں لے سکے تھے، زندہ بچ گئے.

غور طلب بات ہے کہ کیا اس نوعیت کا کوئی اور معرکہ اس دنیا میں کہیں اور نظر آتا ہے ، جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ نانا کے اس دین الٰہی کی تکریم و عظمت و سلامتی کے لئے سر انجام دیا گیا ہو. آج امت مسلمہ کو اس عظیم واقعہ کربلا سے کچھ تو سبق حاصل کرنا چاہیے جبکہ فی زمانہ تو مسلمان ممالک وسائل قدرت اور بہت سی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں. پھر کس یزید سے خوفزدہ ہیں کہ تقریباً چار سالوں سے غزہ اور فلسطین کے لوگ یہود ونصاریٰ کی زیادتیوں اور ظلم کا شکار ہیں. کوئی امام حسین رضی تعالیٰ عنہ جیسا جرات مند اور صاحب ایمان نہیں جو ان ظالموں سے ٹکرانے کی جرات کرسکے ـ

رب العزت امت مسلمہ میں ایسے با ایمان جرات ایمانی سے لبریز شہزادے نصیب فرما جو ان طاغوتی قوتوں کو نیست و نابود کردیں. آمین ثم آمین یا رب العالمین .