Home » blog page » بلاگ » روشن مینار – طلعت نفیس
بلاگ

روشن مینار – طلعت نفیس

تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کا نام سرفہرست ہے۔ آپؓ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
“اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔”

حضرت عمرؓ کی شخصیت جلال و جمال، قوت و رحم، عدل و حکمت اور دیانت و قیادت کا حسین امتزاج تھی۔ آپؓ نے نہ صرف اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں بلکہ ایک ایسا اسلامی اور عادلانہ نظام قائم کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمر لا ء کو غیر مسلم ممالک میں نافذ کیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ ابتدا میں اسلام کے سخت مخالف تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے دل کو ہدایت سے منور کیا تو آپؓ اسلام کے عظیم محافظ بن گئے۔ آپؓ کے قبولِ اسلام سے مسلمانوں کو نئی قوت ملی۔ پہلی مرتبہ مسلمان کھلے عام خانۂ کعبہ میں نماز ادا کرنے کے قابل ہوئے۔

آپؓ کی جرأت و بہادری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مسلمانوں نے مدینہ ہجرت کی تو اکثر صحابہؓ نے خفیہ طور پر ہجرت کی مگر حضرت عمرؓ نے علی الاعلان کہاکہ جو شخص اپنی ماں کو رلانا اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے وہ میرا راستہ روک لے۔رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو “فاروق” کا لقب عطا فرمایا، جس کا مطلب ہے “حق اور باطل میں فرق کرنے والا”۔ آپؓ کی بصیرت، فہم اور غیر معمولی فیصلہ سازی نے اس لقب کو ہمیشہ کے لیے آپؓ کی پہچان بنا دیا. حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وصال کے بعد 13 ہجری میں حضرت عمرؓ خلیفۂ وقت منتخب ہوئے۔ آپؓ کے دورِ خلافت کو اسلامی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔

آپؓ کے دور میں عراق، شام، مصر اور ایران کے وسیع علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے۔ باقاعدہ بیت المال کا نظام قائم ہوا۔ عدالتی اور انتظامی اصلاحات متعارف ہوئیں۔ اسلامی تقویم (ہجری کیلنڈر) کا آغاز کیا گیا۔ پولیس، جیل اور مردم شماری جیسے اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ حضرت عمرؓ کی سب سے نمایاں صفت عدل تھی۔ آپؓ کے نزدیک قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔ ایک مرتبہ مصر کے گورنر کے بیٹے نے ایک عام شخص کو ناحق مارا۔ شکایت حضرت عمرؓ تک پہنچی تو آپؓ نے مظلوم کو حق دیا اور فرمایا۔

“تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟”

یہ الفاظ آج بھی انسانی حقوق اور انصاف کی عظیم مثال سمجھے جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ عوام کے حالات معلوم کر سکیں۔ ایک رات آپؓ نے ایک خاتون کو بچوں کے لیے خالی ہانڈی میں پانی ابالتے دیکھا تاکہ بھوک سے روتے بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت عمرؓ بیت المال گئے، آٹے کی بوری اپنے کندھے پر اٹھائی اور خود اس گھر تک پہنچائی۔ جب ساتھی نے بوری اٹھانے کی پیشکش کی تو فرمایا۔

“کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟”
یہی احساسِ ذمہ داری ایک حکمران کو عظیم بناتا ہے۔ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا تاج ہے۔

26 ذوالحجہ 23 ہجری کو فجر کی نماز کے دوران ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ نے آپؓ پر حملہ کیا۔ چند دن بعد آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ کو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا.

“اللہ تعالیٰ حضرت عمر فاروقؓ سے راضی ہو اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین”۔